
فصوص الحکم اسلامی تصوف اور عرفان کی اہم اور دقیق کتابوں میں شمار ہونے والی شیخِ اکبر محی الدین ابن عربی کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے انبیائے کرامؑ کی نسبت سے الٰہی حکمت، انسانی حقیقت اور روحانی معرفت کے مختلف پہلوؤں کو بیان کیا ہے۔ کتاب کی ترتیب روایتی تاریخی سوانح کی صورت میں نہیں، بلکہ ہر باب کو ایک ’’فص‘‘ کے عنوان سے پیش کیا گیا ہے، جس میں کسی خاص نبی سے منسوب حکمت کو عرفانی اور فکری انداز میں سمجھایا گیا ہے۔
کتاب کا آغاز فصِ آدمیہ سے ہوتا ہے اور اس کے بعد حضرت شیثؑ، حضرت نوحؑ، حضرت ادریسؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت اسحاقؑ، حضرت اسماعیلؑ، حضرت یعقوبؑ، حضرت یوسفؑ اور دیگر انبیائے کرامؑ سے منسوب فصوص آتے ہیں۔ آخری باب فصِ محمدیہ ہے۔ اس طرح کتاب 27 فصوص کے ذریعے نبوت اور حکمت کے مختلف مظاہر کو ایک مربوط روحانی تصور میں پیش کرتی ہے۔
فصوص الحکم کا بنیادی مزاج عرفانی اور مابعد الطبیعیاتی ہے۔ اس میں وجود، معرفت، اسماء و صفاتِ الٰہیہ، تجلی، انسان اور کائنات کے باہمی تعلق، انسانِ کامل، نبوت اور روحانی ادراک جیسے موضوعات مختلف مقامات پر سامنے آتے ہیں۔ ابن عربی انبیائے کرامؑ کو صرف تاریخی شخصیات کے طور پر زیرِ بحث نہیں لاتے، بلکہ ان سے وابستہ حکمتوں کے ذریعے انسانی وجود اور الٰہی حقیقت کے مختلف پہلوؤں کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔